16.6.15

سود


سودخوری

اسلام کی نظر میں سودخوری کس قدر گھناوٴنا اخلاقی، معاشی اور
معاشرتی جرم ہے، اس کا اندازہ اس حقیقت سے کیا جاسکتا ہے کہ زنا اور قتل ایسے افعالِ شنیعہ پر بھی وہ لرزہ خیز سزا نہیں سنائی گئی
جو سودخوری پر سنائی گئی ہے، قرآنِ کریم میں مسلمانوں کو خطاب کرکے کہا گیا ہے؛

”یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنْ کُنْتُمْ مُّوٴْمِنِیْنَ، فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللهِ وَرَسُوْلہ“ (البقرة: ۲۷۸، ۲۷۹)

ترجمہ:… ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سود کا جو بقایا رہتا ہے اسے یک لخت چھوڑ دو، اگر تم مسلمان ہو۔
اور اگر تم ایسا نہیں کرتے تو خدا اور اس کے رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ سن لو!“؛

تمام بد سے بدتر کبیرہ گناہوں کی فہرست سامنے رکھو
اور دیکھو کہ کیا کسی گنہگار کے خلاف خدا اور رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ کیا گیا ہے؟
 اور پھر یہ سوچو کہ جس بدبخت کے خلاف خدا اور رسول میدانِ جنگ میں اُتر آئیں اس کی شورہ بختی کا کیا حشر ہوگا؟ اس کو خدائی عذاب کے کوڑے سے کون بچاسکتا ہے؟
اور اس بدترین مجرم کو جو خدا اور رسول کے ساتھ جنگ لڑ رہا ہے، کون عقل مند ”اُصولِ رُخصت“ کا پروانہ لاکر دے سکتا ہے․․․؟

یہاں یہ نکتہ بھی یاد رہنا چاہئے کہ جو شخص انفرادی طور پر سودخوری کے جرم کا مرتکب ہے
وہ انفرادی حیثیت سے خدا اور رسول کے خلاف میدانِ جنگ میں ہے، اور اگر یہ جرم انفرادی دائرے سے نکل کر
اجتماعی جرم بن جائے اور مجموعی طور پر پورا معاشرہ اس سنگین جرم کا ارتکاب کرنے لگے
 تو خدائی عذاب کا کوڑا پورے معاشرے پر برسنے لگے گا، اور دُنیا کا کوئی بہادر ایسا نہ ہوگا
جو اس جرم کے ارتکاب کے باوجود اس معاشرے کو خدا کے عذاب سے نکال لائے۔

یہ بدنصیب ملک ابتدا ہی سے خدا اور رسول کے خلاف بڑی ڈھٹائی سے مسلح جنگ لڑ رہا ہے، اس پر چاروں طرف سے خدائی قہر و غضب کے کوڑے
 برس رہے ہیں، ”فَصَبَّ عَلَیْھِمْ رَبُّکَ سَوْطَ عَذَاب“ کا منظر آج ہر شخص کو کھلی آنکھوں نظر آرہا ہے۔
دِلوں کا سکون چھن چکا ہے، راتوں کی نیند حرام ہوچکی ہے،
سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ”روٹی، روٹی“ کی پکار
چاروں طرف سے سنائی دے رہی ہے،
لیکن وائے حسرت اور بدبختی کہ
اب بھی عبرت نہیں ہوتی،
بلکہ ہمارے نومجتہد صاحب پروانہٴ ”رُخصت“ لئے پہنچ جاتے ہیں۔
اور حالات کی دُہائی دے کر سود کو حلال کرنے کے لئے ذہانت طباعی کے جوہر دِکھاتے ہیں۔
قرآنِ کریم، خدا اور رسول کے ساتھ ”صلح“ کو سود چھوڑ دینے کے ساتھ مشروط کرتا ہے،
اور حالات کی دُہائی دے کر سود کو حلال کرنے کے لئے ذہانت طباعی کے جوہر دِکھاتے ہیں۔

قرآنِ کریم کے بعد حدیثِ نبوی کو لیجئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف سود کھانے، کھلانے والوں پر
 بلکہ اس کے کاتب و شاہد پر بھی لعنت کی بددُعا کی ہے، اور انہیں راندہٴ بارگاہِ خداوندی ٹھہرایا ہے؛

”عن علی رضی الله عنہ أنہ سمع
رسول الله صلی الله علیہ وسلم لعن آکل الربا أو موکلہ وکاتبہ۔“

(مشکوٰة ص:۲۴۶)

ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ؛

”عن عبدالله بن حنظلة غسیل الملائکة قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: درھم ربا یأکلہ الرجل وھو یعلم أشد من ستة وثلاثین زنیةً۔“

(مشکوٰة ص:۲۴۶)

ترجمہ:… ”سود کا ایک درہم کھانا ۳۶ بار زنا کرنے سے بدتر ہے۔“

اور ایک حدیث میں ہے کہ؛

”عن أبی ھریرة رضی الله عنہ قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: الربا سبعون جزءً أیسرھا أن ینکح الرجل أمہ۔“ (مشکوٰة ص:۲۴۶)

ترجمہ:… ”سود کے ستر درجے ہیں، اور سب سے ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی ماں سے منہ کالا کرے۔“

اب ہمیں اپنی زندگی پر غور کرنا چاہئے

شیعہ کا مختصر تعارف



شیعہ کافروں کا تعارف


انکے عقائد بیان کرنے سے پہلے آپ کو اس سے
باخبر کردوں کہ شیعہ کا بنیادی عقیدہ کیا ہے؟
کیونکہ اسلام کی بنیاد عقیدے پر ہی قائم ہے-
شیعہ مذہب کا اساسی و بنیادی عقیدہ امامت ہے-
منصب امامت کی غرض و غایت، ائمہ( بارہ اماموں)کا درجہ اور انکے اختیارات کا طول و عرض نیچے پیش کیا جا رہا ہے-
جس کا حاصل یہ ہیے کہ منصب امامت الوہیت و نبوت کا ایک مرکب ہے..
یعنی عقیدہ امامت کی زد براہ راست عقیدہ توحید
اور عقیدہ ختم نبوت پر پڑتی ہے-
پهر شیعہ مذهب کے چند اور عقائد و مسائل ایسے ہیں
جیسےعقیدہ بداء( خدا سے بهول چوک ہو جانا )وغیرہ
جو فی الحقیقت عقیدہ امامت ہی کے لازمی نتائج میں سے ہیں
جن میں قرآن کی تحریف کا عقیدہ، تمام صحابہ کرام، ازواج مطہرات اور بالخصوص خلفائے ثلاثہ کے
بارے میں سب و شتم ہی نہیں ان کو کافر منافق اور مرتد قرار دینے والی
وہ خون کهولا دینے والی شیعی روایات ہیں
جنہیں کوئی بهی مسلمان برداشت نہیں کر سکتا..
اسکے علاوہ بعض شرمناک مسائل اور متعہ کے بهی پیروکار ہیں -


شیعہ مذهب میں اماموں کا درجہ
← کائنات کے ذرہ ذرہ پر اماموں کی تکونی حکومت ہے-
← اماموں کا مقام فرشتوں اور انبیاء سے بلند ہے-
← ائمہ سہو اور غفلت سے محفوظ ہئں- (الکومة الاسلامیہ )
← توحید و رسالت کی شہادت کے ساته بارہ اماموں کی
امامت کی شہادت دینا بهی جزو ایمان ہے-
( تحریر الوسیلہ )
← امام کے بغیر یہ دنیا قائم نہیں رہ سکتی-
← امام کو پہچاننا اور ماننا شرط ایمان ہے-
← اماموں کی اطاعت فرض ہے-
← امام انبیاء علیہ السلام کی طرح معصوم ہوتے ہیں-
(اصول کافی)
← اماموں کا درجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر اور
ساری مخلوق اور دوسرے تمام انبیاء سے بهی
برتر اور بالاتر ہے-
(اصول کافی کراب الحجہ)
                            □□  ■■■  □□


( کتمان اور تقیہ ) 
مذهب شیعہ میں کتمان اور تقیہ بهی ہے یہ عقیدہ بهی
امامت کےلوازم و نتائج میں سے ہیں؛
عبد اللہ ابن سبا کے فیض یافتہ لوگوں نے امام باقر
اور امام جعفر صادق کے زمانہ میں
اثنا عشری مذہب کی جب بنیاد ڈالی
تو انہوں نے عقیدہ امامت اور شیعہ مذهب کو
بچانے کے لئے یہ دو عقیدے ایجاد کئے؛
چنانچہ اصول کافی میں امام جعفر صادق فرماتے ہیں
" تم ایسے دین پر ہو کہ جو شخص اس کو چهپائےگا (تقیہ اختیار کرےگا) اس کو اللہ تعالی کی طرف سے عزت عطا ہوگی
اور جو اسکو ظاہر کرےگا اللہ اسکو ذلیل کرےگا" -
دین کے دس حصوں میں سے نو حصے تقیہ (چهپانے )
میں ہیں
اور جو تقیہ نہیں کرتا وہ بےدین ہے"-
خلاصہ یہ کہ شیعوں کی بات پر اعتماد ناممکن ہے..
اس لئے شیخ عبد القدر جیلانی رح فرماتے ہیں کہ
شیعہ کی توبہ بهی ناقابل قبول ہے ، کیونکہ کیا پتا اپنے اصول تقیہ کی رو سے
دهوکابازی سے کام لے رہا ہو!
اسکے علاوہ چند عقائد درجے ذیل ہے...

تحریف قرآن مجید کے قائل شیعہ کافر
← شیعہ کی کتاب اصول کافی میں لکها ہے کہ امام جعفر نے فرمایا: وہ قرآن جو جبرئیل علیہ السلام
محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر لے کر نازل ہوئے تهے
اس میں ستر ہزار آیتیں تهیں-
{اس کے مطابق قرآن کا تقریبا دو تہائی حصہ غائب کر دیا گیا کیونکہ موجودہ قرآن میں ۶۶۶۶  آیات ہیں.}
← اصلی قرآن وہ تها جو حضرت علی رض نے مرتب فرمایا تها- وہ امام غائب کے پاس ہے- اور موجودہ قرآن سے مختلف ہے-(اصول کافی)
← قرآن میں 'پنجتن پاک' اور تمام ائمہ کے نام تهے
وہ نکال دیئے گئے اور تحریف کی گئی-

                              ○○  ●  ○○


شیعہ کے مطابق عام صحابہ کرام خاص کر خلفائے ثلاثہ کافر و مرتد
اور جہنمی ہیں
 حضرت علی دض کی ولایت نہ ماننے کی وجہ سے ←
خلفائے ثلاثہ اور عام صحابہ کرام کافر و مرتد ہو گئے (معاذاللہ )
← ایمان کے معنی امیرالمومنین علی، کفر کا مطلب ابوبکر، فسق سے مراد  عمر، عصیان سے عثمان(معاذاللہ)
(اصول کافی ص ۲۶۹ )
← ← ابو بکر کی بیعت سب سے پہلے ابلیس نے کی تهی-(فروع کافی
← تین کے سوا تمام صحابہ مرتد ہو گئے-(فروع کافی، کتاب الروضہ)
←شیعہ کا یہ بهی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالی کے علم میں غلطی ہوسکتی ہے
بلکہ ہوتی رہتی ہے وہ اسے بداء کہتے ہیں اور عقیدہ بداء سے بڑه کر ان کے مذہب میں اور کوئی عبادت نہیں-
(اصول کافی)
                         □  □  ■  ■  □  □


متعہ کیا ہے ؟
متعہ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی بهی مرد کسی بهی شوہر والی غیرمحرم عورت سے،
وقت کے تعین کے ساته مقررہ اجرت پر متعہ کے عنوان سے
معاملہ طے کرے تو اس وقت کے اندر اندر یہ دونوں
مباشرت کر سکتے ہیں
اس میں شاہد'گواہ'قاضی' وکیل کی اور اعلان کی'
بلکہ تیسرے آدمی کے باخبر ہونے کی ضرورت نہیں- چوری چهپے بهی یہ سب کچه ہو سکتا ہے
اور معلوم ہوا ہے کہ زیادہ تر ایسا ہی ہوتا ہے
( واللہ اعلم)
خمینی نے اپنی کتاب" تحریرالوسیلہ" میں لکها ہے
کہ متعہ جسم فروشی کا پیشہ کرنے والی بازاری عورت سے بهی
کیا جا سکتا ہے اور وہ صرف گهنٹہ دو گهنٹے کے لئے بہی
-ہو سکتا ہے
شیعوں کے ہاں متعہ
صرف جائز اورحلال ہی نہیں ہے بلکہ
نماز، روزہ اور حج سے بهی افضل عبادت ہے-(تفسیر منج الصادقین ج ۱، ص ۲۵۶)
علامہ باقر مجلسی نے متعہ کے موضوع پر ایک مستقل رسالہ لکها ہے جس میں
متعہ کی فضیلت کے بارے میں ایک یہ
روایت بهی نقل کی ہے- جس نے زن مومنہ سے متعہ کیا
گویا اس نے ستر مرتبہ خانہ کعبہ کی زیارت کی-(عجالہ حسنہ ص ۱۶ 
                 
             ◇  ○  ◆  ○  ◇


مذکورہ بالا عقائد کے کفر ہونے میں کسی کو شک و شبہ کی گنجائش ہئے ؟؟
اب بهی جو عاما شیعوں کی تکفیر میں توقف کریں وه عنداللہ مجرم ہوں گے-