24.7.15

نماز کی سنتیں


نماز کی سنتیں

قیام کی ۱۱ سنتیں
۱ تکبیر تحریمہ کے وقت سیدھا کھڑا ہوناـ
۲ پیروں کی انگلیاں قبلہ کی طرف رکھناـ
۳ مقتدی کی تکبیر تحریمہ امام کی تکبیر تحریمہ کے ساتھ ہوناـ
٤  تکبیر تحریمہ کے وقت دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاناـ
۵ ہتھیلیوں کو قبلہ کی طرف رکھناـ
٦ انگلیوں کو اپنی حالت پر رکھناـ
۷ دائیں ہاتھ کی ہتھیلی بائیں ہاتھ کی ہتبیلی کی پشت پر رکھناـ
۸ چھنگلی اور انگوٹھے سے حلقہ بنا کر گٹے کو پکڑناـ
۹ درمیانی تین انگلیوں کو کلائی پر رکھناـ
۱۰ ناف کے نیچے ہاتھ باندھناـ
۱۱ ثناء پڑھناـ

قرأت کی ۷ سنتیں
۱ تعوذ یعنی اعو‌ذباللـہ پڑھناـ
۲ تسمیہ یعنی بسم اللـہ پڑھناـ
۳ آہستہ سے آمین کہناـ
٤ فجر اور ظہر میں طوال مفصل (سورہ حجرات سے سورہ بروج تک کی سورتیں)، عصر اور عشاء میں اوساط مفصل (سورہ طارق سے سورہ بینـہ)، اور مغرب میں قصار مفصل (سورہ زلزال سے سورہ ناس) میں سے پڑھناـ
۵ فجرکی پہلی رکعت لمبی کرناـ
٦ درمیانی رفتار سے قرأت کرناـ
۷ فرض کی تیسری اور چوتھی رکعت میں صرف سورہ فاتحہ پڑھناـ

رکوع کی ۸ سنتیں
۱ رکوع کی تکبیر کہناـ
۲ رکوع میں دونوں ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑناـ
۳ گھٹنوں کو پکڑنے میں انگلیوں کو کشادہ رکھناـ
٤ پیٹھ کو بچھا دیناـ
۵ پنڈلیوں کو سیدھا رکھناـ
٦ سر اور سرین کو برابر رکھناـ
۷ رکوع میں تین مرتبہ "سبحـان ربی العظیـم“ پڑھناـ
۸ رکوع سے اٹھنے میں امام کو "سمـع اللـہ لمـن حمـدہ“،
مقتدی کو "ربنـا لک الحمـد“، اور
منفرد کو دونوں کہناـ

سجدہ کی ۱۲ سنتیں
۱ سجدہ میں جاتے وقت تکبیر کہناـ
۲ سجدہ میں پہلے دونوں گھٹنوں کو رکھناـ
۳ پھر دونوں ہاتھوں کو رکھناـ
٤ پھر ناک کھناـ
۵ پھر پیشانی رکھناـ
٦ سجدہ میں سر دونوں ہاتھوں کے درمیان رکھناـ
۷ سجدہ میں پیٹ کو رانوں سے الگ رکھناـ
۸ پہلوؤں کو بازوؤں سے الگ رکھناـ
۹ کہنیوں کو زمین سے الگ رکھناـ
۱۰ سجدہ میں تین مرتبہ "سبحـان ربی الاعلـی“ پڑھناـ
۱۱ سجدہ سے اٹھنے کی تکبیر کہناـ
۱۲ سجدہ سے اٹھنے میں پہلے پیشانی، پھر ناک، پھر ہاتھوں کو
پھرگھٹنوں کو اٹھانا اور دونوں سجدوں کے درمیان اطمنان سے بیٹھناـ

قعدہ کی ۱۳ سنتیں
۱ دائیں پیر کو کھڑا رکھنا اور بائیں پیرکو بچھا کر اس پر بیٹھناـ
۲ دونوں ہاتھوں کو رانوں پر رکھناـ
۳ تشہد میں "اشھـد ان لاالـہ“ پر شہادت کی انگلی اٹھانا اور "الااللـہ“ پر جھکا دیناـ
٤ قعدہ اخیرہ میں درود شریف پڑھناـ
۵ درود شریف کے بعد دعائے ماثورہ ان الفاظ میں جو قرآن و حدیث کے مشابہ ہو پڑھناـ
٦ دونوں طرف سلام پھیرناـ
۷ سلام کی ابتداء داہنی طرف سے کرناـ
۸ امام کو مقتدیوں، فرشتوں اور صالض جنات کی نیت کرناـ
۹ مقتدی کو امام، فرشتوں، صالح جنات اور دائیں بائیں مقتدیوں کی نیت کرناـ
۱۰ منفرد کو صرف فرشتوں کی نیت کرناـ
۱۱ مقتدی کو امام کے ساتھ سلام پھیرناـ
۱۲ دوسرے سلام کی آواز کو پہلے سلام کی آواز سے پست کرناـ
۱۳ مسبوق کو امام کے فارغ ہونے کا انتظار کرناـ

طریقۂ نماز

نماز کا طریقہ

تکبیر تحریمہ کہتے ہوئے ہاتھ باندھے،
پھر ثناء پڑھے،
پھر تعوّذ و تسمیہ پڑھے
پھر سورة الفاتحہ پڑھے
پھر قرأة کرے (تین چھوٹی آیتیں یا ایک بڑی آیت پڑنا)
پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے رکوع میں جائے
تین مرتبہ رکوع کی تسبیح پڑھے
پھر سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهْ کہ کر کھڑے ہوں
(امام صرف سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهْ کہے،
مقتدی رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدْ، اور منفرد دونوں کہے)
پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے سجدے میں جائے
تین مرتبہ سجدہ کی تسبیح پڑھے
پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے جلسے میں بیٹھے (دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے کو جلسہ کہتے ہیں)
دوسرا سجدہ کرے
پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے کھڑھے ہوں
پھر تعوّذ و تسمیہ پڑھے
پھر سورة الفاتحہ پڑھے
پھر رکوع سجدے کے بعد قعدے میں بیٹھے
پھر اتحیات پڑھے،(اگر چار رکعت والی نماز ہو تو اتحیات کے بعد کھڑے ہو جائیں)
اس کے بعد درود ابراھیم پڑھے
پھر دعاء مأثورہ پڑھے
اس کے بعد دونوں طرف سلام پھیر دیں…

وضو


وضوء کے ٤ فرائض

١ ایک مرتبہ پورا چہرا دھوناـ
٢ ایک مرتبہ دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھوناـ
٣ ایک بار چوتھائی سر کا مسح کرنا (سر کے چوتھے حصے          کا مسح کرنا)ـ
٤ ایک مرتبہ دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھوناـ

وضو کی ۱۸ سنتیں
۱ وضو کی نیت کرناـ مثلاً نماز کے مباح ہونے کے لئے وضو کرتا ہوں.
۲ بسم اللہ پڑھناـ
۳ دونوں ہاتھوں کو پہنچوں تک دھونا
۳ تین مرتبہ کلی کرنا
٤ مسواک کرنا، اگر مسواک نہ ہو تو شہادت کی انگلی سے دانتوں کو ملناـ
٥ کلی کرناـ
٦ ناک میں پانی ڈالنا اور صاف کرناـ
۷ کلی اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرنا اگر روزہ نہ ہوـ
۸ ہر عضو کو تین تین بار دھوناـ
۹ چہرہ دھوتے وقت ڈاڑھی کا خلال کرناـ
۱۰ ہاتھوں اور پیروں کو دھوتے وقت انگلیوں کا خلال کرناـ
۱۱ ایک مرتبہ پورے سر کا مسح کرناـ
۱۲ سر کے مسح کے ساتھ کانوں کا مسح کرناـ
۱۳ ہر عضو کو مل مل کر دھوناـ
١٤ پہ در پہ وضو کرناـ
۱۵ ترتیب وار وضو کرناـ
١٦ داہنی طرف سے پہلے دھوناـ
۱۷ سر کے اگلے حصے سے مسح کرناـ
۱۸ گردن کا مسح کرناـ

17.7.15

معراج

معراج

معراج کے واقعه کی تاریخ اور سال کے متعلق مؤرخین و اهل سیر کی راۓ مختلف هے،
ایک راۓ یه هے که نبوت کے بارهویں سال
٢٧رجب کو ٥١ سال ٥ مهینه کی عمر میں
نبی اکرم صلی الله علیه وسلم کو معراج هوئی-

نماز


نماز

الله رب العزت نے جو عبادات انسان پر
لازم قرار دی هے
ان سب عبادات میں اهم "نماز" هے-
قرآن کریم میں تقریبا ٩٠٠ مرتبه صراحة و اشارة نماز کا ذکر کیا گیا هے، اسی وجه سے نماز کو ایک عظیم درجه حاصل هے،
صرف نماز هی ایک ایسا رکن هے جسکی
فرضیت کا اعلان زمین پر نهیں بلکه ساتوں آسمانوں کے اوپر معراج کی رات هوا.
نیز یه طحفہ الله تعالی نے بذات خود اپنے حبیب علیه السلام کو عطا فرمایا-

قرآن کریم کا ارشاد هے…
"جو کتاب آپ پر وحی کی گئی هے اسے پڑھۓ اور نماز قائم کیجۓ،
یقینا نماز بےحیائی کو روکتی هے.“(العنکبوت٤٥)

الله تعالی نے نماز میں یه خاصیت و تاثیر رکھی هے
که وه نمازی کو گناهوں اور برائیوں سے روک دیتی هے
مگر ضروری هے که اس پر پابندی سے عمل کیا جاۓ اور نماز کو ان شرائط و آداب کے ساتھ پڑھا جاۓ جو نماز کی قبولیت کے
لئے ضروری هے.

ترجمه: "اے امان والو! صبر اور نماز کے ذریعه مدد چاهو،
بیشک الله تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ هے."(البقره ١٥٣)
جب بھی کسی پر پریشانی یا مصیبت آۓ تو مسلمان کو چاهئے که وه اس پر صبر کرے اور نماز کا خاص اهتمام کرکے
الله تعالی سے تعلق قائم کرے.
ایک جگه الله تعالی فرماتے هیں
"میں تمهارے ساتھ هوں اگر تم نماز قائم رکھوگے اور زکاة دیتے رهوگے."(المائده ١٢)
یعنی نماز کی پابندی کرنے سے بنده الله تعالی کے بهت قریب هو جاتا هے.

"یقینا ایمان والوں نے فلاح پائی جو اپنی نماز میں خشوع کرتے هیں"(المؤمنون ١،٢)

ارشاد نبوی هے: إنما مَوضِعُ الصلوةِ مِن الدينِ كموضع الرأسِ من الجسد.
ترجمه: نماز کا مقام دین میں ایسا هے جیسا که
سر کا مقام جسم میں هوتا هے.

نبی اکرم صلی الله علیه وسلم کا ارشاد هے: "قیامت کے دن اعمال میں سب سے پهلے نماز کا حساب لیا جائیگا،
اگر نماز درست هوئی تو وه کامیاب هوگا
اور اگر نماز درست نه هوئی تو
ناکام و خساره میں هوگا-"
(مسند احمد، ابن ماجه)
نبی اکرم صلی الله علیه وسلم کا ارشاد هے:
"جو شخص پانچوں نمازوں کی اس طرح پابندی کرے
که وضو اور اوقات کا اهتمام کرے،
رکوع اور سجده اچھی طرح کرے
اور اس طرح نماز پڑھنے کو الله تعالی کی طرف سے اپنے ذمه ضروری سمجھے
تو اس آدمی کو جهنم کی آگ پر حرام
کر دیا گیا-"(مسند احمد)

چند خلاصه احادیث ذیل میں مذکور هے-
٥ نماز کا ثواب ٥٠ نمازوں کے برابر دیا جاتا هے(ترمذی)
نمازی کے لئے
نماز قیامت کے دن نور هوگی.
عذاب سے بچنے کا ذریعه هوگی.
اور بے نمازی کے لئے نه نور هوگی نه کوئی ذریعه،
اور وه فرعون، هامان و قارون کے ساتھ هوگا-(مسند احمد)

لہاذا نماز کو ہمیشہ خوب پابندی سے وقت پر اچھی طرح وضو
کرکے اور دل لگا کر پڑھنا چاہئےـ