24.7.15

نماز کی سنتیں


نماز کی سنتیں

قیام کی ۱۱ سنتیں
۱ تکبیر تحریمہ کے وقت سیدھا کھڑا ہوناـ
۲ پیروں کی انگلیاں قبلہ کی طرف رکھناـ
۳ مقتدی کی تکبیر تحریمہ امام کی تکبیر تحریمہ کے ساتھ ہوناـ
٤  تکبیر تحریمہ کے وقت دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاناـ
۵ ہتھیلیوں کو قبلہ کی طرف رکھناـ
٦ انگلیوں کو اپنی حالت پر رکھناـ
۷ دائیں ہاتھ کی ہتھیلی بائیں ہاتھ کی ہتبیلی کی پشت پر رکھناـ
۸ چھنگلی اور انگوٹھے سے حلقہ بنا کر گٹے کو پکڑناـ
۹ درمیانی تین انگلیوں کو کلائی پر رکھناـ
۱۰ ناف کے نیچے ہاتھ باندھناـ
۱۱ ثناء پڑھناـ

قرأت کی ۷ سنتیں
۱ تعوذ یعنی اعو‌ذباللـہ پڑھناـ
۲ تسمیہ یعنی بسم اللـہ پڑھناـ
۳ آہستہ سے آمین کہناـ
٤ فجر اور ظہر میں طوال مفصل (سورہ حجرات سے سورہ بروج تک کی سورتیں)، عصر اور عشاء میں اوساط مفصل (سورہ طارق سے سورہ بینـہ)، اور مغرب میں قصار مفصل (سورہ زلزال سے سورہ ناس) میں سے پڑھناـ
۵ فجرکی پہلی رکعت لمبی کرناـ
٦ درمیانی رفتار سے قرأت کرناـ
۷ فرض کی تیسری اور چوتھی رکعت میں صرف سورہ فاتحہ پڑھناـ

رکوع کی ۸ سنتیں
۱ رکوع کی تکبیر کہناـ
۲ رکوع میں دونوں ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑناـ
۳ گھٹنوں کو پکڑنے میں انگلیوں کو کشادہ رکھناـ
٤ پیٹھ کو بچھا دیناـ
۵ پنڈلیوں کو سیدھا رکھناـ
٦ سر اور سرین کو برابر رکھناـ
۷ رکوع میں تین مرتبہ "سبحـان ربی العظیـم“ پڑھناـ
۸ رکوع سے اٹھنے میں امام کو "سمـع اللـہ لمـن حمـدہ“،
مقتدی کو "ربنـا لک الحمـد“، اور
منفرد کو دونوں کہناـ

سجدہ کی ۱۲ سنتیں
۱ سجدہ میں جاتے وقت تکبیر کہناـ
۲ سجدہ میں پہلے دونوں گھٹنوں کو رکھناـ
۳ پھر دونوں ہاتھوں کو رکھناـ
٤ پھر ناک کھناـ
۵ پھر پیشانی رکھناـ
٦ سجدہ میں سر دونوں ہاتھوں کے درمیان رکھناـ
۷ سجدہ میں پیٹ کو رانوں سے الگ رکھناـ
۸ پہلوؤں کو بازوؤں سے الگ رکھناـ
۹ کہنیوں کو زمین سے الگ رکھناـ
۱۰ سجدہ میں تین مرتبہ "سبحـان ربی الاعلـی“ پڑھناـ
۱۱ سجدہ سے اٹھنے کی تکبیر کہناـ
۱۲ سجدہ سے اٹھنے میں پہلے پیشانی، پھر ناک، پھر ہاتھوں کو
پھرگھٹنوں کو اٹھانا اور دونوں سجدوں کے درمیان اطمنان سے بیٹھناـ

قعدہ کی ۱۳ سنتیں
۱ دائیں پیر کو کھڑا رکھنا اور بائیں پیرکو بچھا کر اس پر بیٹھناـ
۲ دونوں ہاتھوں کو رانوں پر رکھناـ
۳ تشہد میں "اشھـد ان لاالـہ“ پر شہادت کی انگلی اٹھانا اور "الااللـہ“ پر جھکا دیناـ
٤ قعدہ اخیرہ میں درود شریف پڑھناـ
۵ درود شریف کے بعد دعائے ماثورہ ان الفاظ میں جو قرآن و حدیث کے مشابہ ہو پڑھناـ
٦ دونوں طرف سلام پھیرناـ
۷ سلام کی ابتداء داہنی طرف سے کرناـ
۸ امام کو مقتدیوں، فرشتوں اور صالض جنات کی نیت کرناـ
۹ مقتدی کو امام، فرشتوں، صالح جنات اور دائیں بائیں مقتدیوں کی نیت کرناـ
۱۰ منفرد کو صرف فرشتوں کی نیت کرناـ
۱۱ مقتدی کو امام کے ساتھ سلام پھیرناـ
۱۲ دوسرے سلام کی آواز کو پہلے سلام کی آواز سے پست کرناـ
۱۳ مسبوق کو امام کے فارغ ہونے کا انتظار کرناـ

طریقۂ نماز

نماز کا طریقہ

تکبیر تحریمہ کہتے ہوئے ہاتھ باندھے،
پھر ثناء پڑھے،
پھر تعوّذ و تسمیہ پڑھے
پھر سورة الفاتحہ پڑھے
پھر قرأة کرے (تین چھوٹی آیتیں یا ایک بڑی آیت پڑنا)
پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے رکوع میں جائے
تین مرتبہ رکوع کی تسبیح پڑھے
پھر سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهْ کہ کر کھڑے ہوں
(امام صرف سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهْ کہے،
مقتدی رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدْ، اور منفرد دونوں کہے)
پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے سجدے میں جائے
تین مرتبہ سجدہ کی تسبیح پڑھے
پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے جلسے میں بیٹھے (دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے کو جلسہ کہتے ہیں)
دوسرا سجدہ کرے
پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے کھڑھے ہوں
پھر تعوّذ و تسمیہ پڑھے
پھر سورة الفاتحہ پڑھے
پھر رکوع سجدے کے بعد قعدے میں بیٹھے
پھر اتحیات پڑھے،(اگر چار رکعت والی نماز ہو تو اتحیات کے بعد کھڑے ہو جائیں)
اس کے بعد درود ابراھیم پڑھے
پھر دعاء مأثورہ پڑھے
اس کے بعد دونوں طرف سلام پھیر دیں…

وضو


وضوء کے ٤ فرائض

١ ایک مرتبہ پورا چہرا دھوناـ
٢ ایک مرتبہ دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھوناـ
٣ ایک بار چوتھائی سر کا مسح کرنا (سر کے چوتھے حصے          کا مسح کرنا)ـ
٤ ایک مرتبہ دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھوناـ

وضو کی ۱۸ سنتیں
۱ وضو کی نیت کرناـ مثلاً نماز کے مباح ہونے کے لئے وضو کرتا ہوں.
۲ بسم اللہ پڑھناـ
۳ دونوں ہاتھوں کو پہنچوں تک دھونا
۳ تین مرتبہ کلی کرنا
٤ مسواک کرنا، اگر مسواک نہ ہو تو شہادت کی انگلی سے دانتوں کو ملناـ
٥ کلی کرناـ
٦ ناک میں پانی ڈالنا اور صاف کرناـ
۷ کلی اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرنا اگر روزہ نہ ہوـ
۸ ہر عضو کو تین تین بار دھوناـ
۹ چہرہ دھوتے وقت ڈاڑھی کا خلال کرناـ
۱۰ ہاتھوں اور پیروں کو دھوتے وقت انگلیوں کا خلال کرناـ
۱۱ ایک مرتبہ پورے سر کا مسح کرناـ
۱۲ سر کے مسح کے ساتھ کانوں کا مسح کرناـ
۱۳ ہر عضو کو مل مل کر دھوناـ
١٤ پہ در پہ وضو کرناـ
۱۵ ترتیب وار وضو کرناـ
١٦ داہنی طرف سے پہلے دھوناـ
۱۷ سر کے اگلے حصے سے مسح کرناـ
۱۸ گردن کا مسح کرناـ

17.7.15

معراج

معراج

معراج کے واقعه کی تاریخ اور سال کے متعلق مؤرخین و اهل سیر کی راۓ مختلف هے،
ایک راۓ یه هے که نبوت کے بارهویں سال
٢٧رجب کو ٥١ سال ٥ مهینه کی عمر میں
نبی اکرم صلی الله علیه وسلم کو معراج هوئی-

نماز


نماز

الله رب العزت نے جو عبادات انسان پر
لازم قرار دی هے
ان سب عبادات میں اهم "نماز" هے-
قرآن کریم میں تقریبا ٩٠٠ مرتبه صراحة و اشارة نماز کا ذکر کیا گیا هے، اسی وجه سے نماز کو ایک عظیم درجه حاصل هے،
صرف نماز هی ایک ایسا رکن هے جسکی
فرضیت کا اعلان زمین پر نهیں بلکه ساتوں آسمانوں کے اوپر معراج کی رات هوا.
نیز یه طحفہ الله تعالی نے بذات خود اپنے حبیب علیه السلام کو عطا فرمایا-

قرآن کریم کا ارشاد هے…
"جو کتاب آپ پر وحی کی گئی هے اسے پڑھۓ اور نماز قائم کیجۓ،
یقینا نماز بےحیائی کو روکتی هے.“(العنکبوت٤٥)

الله تعالی نے نماز میں یه خاصیت و تاثیر رکھی هے
که وه نمازی کو گناهوں اور برائیوں سے روک دیتی هے
مگر ضروری هے که اس پر پابندی سے عمل کیا جاۓ اور نماز کو ان شرائط و آداب کے ساتھ پڑھا جاۓ جو نماز کی قبولیت کے
لئے ضروری هے.

ترجمه: "اے امان والو! صبر اور نماز کے ذریعه مدد چاهو،
بیشک الله تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ هے."(البقره ١٥٣)
جب بھی کسی پر پریشانی یا مصیبت آۓ تو مسلمان کو چاهئے که وه اس پر صبر کرے اور نماز کا خاص اهتمام کرکے
الله تعالی سے تعلق قائم کرے.
ایک جگه الله تعالی فرماتے هیں
"میں تمهارے ساتھ هوں اگر تم نماز قائم رکھوگے اور زکاة دیتے رهوگے."(المائده ١٢)
یعنی نماز کی پابندی کرنے سے بنده الله تعالی کے بهت قریب هو جاتا هے.

"یقینا ایمان والوں نے فلاح پائی جو اپنی نماز میں خشوع کرتے هیں"(المؤمنون ١،٢)

ارشاد نبوی هے: إنما مَوضِعُ الصلوةِ مِن الدينِ كموضع الرأسِ من الجسد.
ترجمه: نماز کا مقام دین میں ایسا هے جیسا که
سر کا مقام جسم میں هوتا هے.

نبی اکرم صلی الله علیه وسلم کا ارشاد هے: "قیامت کے دن اعمال میں سب سے پهلے نماز کا حساب لیا جائیگا،
اگر نماز درست هوئی تو وه کامیاب هوگا
اور اگر نماز درست نه هوئی تو
ناکام و خساره میں هوگا-"
(مسند احمد، ابن ماجه)
نبی اکرم صلی الله علیه وسلم کا ارشاد هے:
"جو شخص پانچوں نمازوں کی اس طرح پابندی کرے
که وضو اور اوقات کا اهتمام کرے،
رکوع اور سجده اچھی طرح کرے
اور اس طرح نماز پڑھنے کو الله تعالی کی طرف سے اپنے ذمه ضروری سمجھے
تو اس آدمی کو جهنم کی آگ پر حرام
کر دیا گیا-"(مسند احمد)

چند خلاصه احادیث ذیل میں مذکور هے-
٥ نماز کا ثواب ٥٠ نمازوں کے برابر دیا جاتا هے(ترمذی)
نمازی کے لئے
نماز قیامت کے دن نور هوگی.
عذاب سے بچنے کا ذریعه هوگی.
اور بے نمازی کے لئے نه نور هوگی نه کوئی ذریعه،
اور وه فرعون، هامان و قارون کے ساتھ هوگا-(مسند احمد)

لہاذا نماز کو ہمیشہ خوب پابندی سے وقت پر اچھی طرح وضو
کرکے اور دل لگا کر پڑھنا چاہئےـ

16.6.15

سود


سودخوری

اسلام کی نظر میں سودخوری کس قدر گھناوٴنا اخلاقی، معاشی اور
معاشرتی جرم ہے، اس کا اندازہ اس حقیقت سے کیا جاسکتا ہے کہ زنا اور قتل ایسے افعالِ شنیعہ پر بھی وہ لرزہ خیز سزا نہیں سنائی گئی
جو سودخوری پر سنائی گئی ہے، قرآنِ کریم میں مسلمانوں کو خطاب کرکے کہا گیا ہے؛

”یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنْ کُنْتُمْ مُّوٴْمِنِیْنَ، فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللهِ وَرَسُوْلہ“ (البقرة: ۲۷۸، ۲۷۹)

ترجمہ:… ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سود کا جو بقایا رہتا ہے اسے یک لخت چھوڑ دو، اگر تم مسلمان ہو۔
اور اگر تم ایسا نہیں کرتے تو خدا اور اس کے رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ سن لو!“؛

تمام بد سے بدتر کبیرہ گناہوں کی فہرست سامنے رکھو
اور دیکھو کہ کیا کسی گنہگار کے خلاف خدا اور رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ کیا گیا ہے؟
 اور پھر یہ سوچو کہ جس بدبخت کے خلاف خدا اور رسول میدانِ جنگ میں اُتر آئیں اس کی شورہ بختی کا کیا حشر ہوگا؟ اس کو خدائی عذاب کے کوڑے سے کون بچاسکتا ہے؟
اور اس بدترین مجرم کو جو خدا اور رسول کے ساتھ جنگ لڑ رہا ہے، کون عقل مند ”اُصولِ رُخصت“ کا پروانہ لاکر دے سکتا ہے․․․؟

یہاں یہ نکتہ بھی یاد رہنا چاہئے کہ جو شخص انفرادی طور پر سودخوری کے جرم کا مرتکب ہے
وہ انفرادی حیثیت سے خدا اور رسول کے خلاف میدانِ جنگ میں ہے، اور اگر یہ جرم انفرادی دائرے سے نکل کر
اجتماعی جرم بن جائے اور مجموعی طور پر پورا معاشرہ اس سنگین جرم کا ارتکاب کرنے لگے
 تو خدائی عذاب کا کوڑا پورے معاشرے پر برسنے لگے گا، اور دُنیا کا کوئی بہادر ایسا نہ ہوگا
جو اس جرم کے ارتکاب کے باوجود اس معاشرے کو خدا کے عذاب سے نکال لائے۔

یہ بدنصیب ملک ابتدا ہی سے خدا اور رسول کے خلاف بڑی ڈھٹائی سے مسلح جنگ لڑ رہا ہے، اس پر چاروں طرف سے خدائی قہر و غضب کے کوڑے
 برس رہے ہیں، ”فَصَبَّ عَلَیْھِمْ رَبُّکَ سَوْطَ عَذَاب“ کا منظر آج ہر شخص کو کھلی آنکھوں نظر آرہا ہے۔
دِلوں کا سکون چھن چکا ہے، راتوں کی نیند حرام ہوچکی ہے،
سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ”روٹی، روٹی“ کی پکار
چاروں طرف سے سنائی دے رہی ہے،
لیکن وائے حسرت اور بدبختی کہ
اب بھی عبرت نہیں ہوتی،
بلکہ ہمارے نومجتہد صاحب پروانہٴ ”رُخصت“ لئے پہنچ جاتے ہیں۔
اور حالات کی دُہائی دے کر سود کو حلال کرنے کے لئے ذہانت طباعی کے جوہر دِکھاتے ہیں۔
قرآنِ کریم، خدا اور رسول کے ساتھ ”صلح“ کو سود چھوڑ دینے کے ساتھ مشروط کرتا ہے،
اور حالات کی دُہائی دے کر سود کو حلال کرنے کے لئے ذہانت طباعی کے جوہر دِکھاتے ہیں۔

قرآنِ کریم کے بعد حدیثِ نبوی کو لیجئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف سود کھانے، کھلانے والوں پر
 بلکہ اس کے کاتب و شاہد پر بھی لعنت کی بددُعا کی ہے، اور انہیں راندہٴ بارگاہِ خداوندی ٹھہرایا ہے؛

”عن علی رضی الله عنہ أنہ سمع
رسول الله صلی الله علیہ وسلم لعن آکل الربا أو موکلہ وکاتبہ۔“

(مشکوٰة ص:۲۴۶)

ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ؛

”عن عبدالله بن حنظلة غسیل الملائکة قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: درھم ربا یأکلہ الرجل وھو یعلم أشد من ستة وثلاثین زنیةً۔“

(مشکوٰة ص:۲۴۶)

ترجمہ:… ”سود کا ایک درہم کھانا ۳۶ بار زنا کرنے سے بدتر ہے۔“

اور ایک حدیث میں ہے کہ؛

”عن أبی ھریرة رضی الله عنہ قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: الربا سبعون جزءً أیسرھا أن ینکح الرجل أمہ۔“ (مشکوٰة ص:۲۴۶)

ترجمہ:… ”سود کے ستر درجے ہیں، اور سب سے ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی ماں سے منہ کالا کرے۔“

اب ہمیں اپنی زندگی پر غور کرنا چاہئے

شیعہ کا مختصر تعارف



شیعہ کافروں کا تعارف


انکے عقائد بیان کرنے سے پہلے آپ کو اس سے
باخبر کردوں کہ شیعہ کا بنیادی عقیدہ کیا ہے؟
کیونکہ اسلام کی بنیاد عقیدے پر ہی قائم ہے-
شیعہ مذہب کا اساسی و بنیادی عقیدہ امامت ہے-
منصب امامت کی غرض و غایت، ائمہ( بارہ اماموں)کا درجہ اور انکے اختیارات کا طول و عرض نیچے پیش کیا جا رہا ہے-
جس کا حاصل یہ ہیے کہ منصب امامت الوہیت و نبوت کا ایک مرکب ہے..
یعنی عقیدہ امامت کی زد براہ راست عقیدہ توحید
اور عقیدہ ختم نبوت پر پڑتی ہے-
پهر شیعہ مذهب کے چند اور عقائد و مسائل ایسے ہیں
جیسےعقیدہ بداء( خدا سے بهول چوک ہو جانا )وغیرہ
جو فی الحقیقت عقیدہ امامت ہی کے لازمی نتائج میں سے ہیں
جن میں قرآن کی تحریف کا عقیدہ، تمام صحابہ کرام، ازواج مطہرات اور بالخصوص خلفائے ثلاثہ کے
بارے میں سب و شتم ہی نہیں ان کو کافر منافق اور مرتد قرار دینے والی
وہ خون کهولا دینے والی شیعی روایات ہیں
جنہیں کوئی بهی مسلمان برداشت نہیں کر سکتا..
اسکے علاوہ بعض شرمناک مسائل اور متعہ کے بهی پیروکار ہیں -


شیعہ مذهب میں اماموں کا درجہ
← کائنات کے ذرہ ذرہ پر اماموں کی تکونی حکومت ہے-
← اماموں کا مقام فرشتوں اور انبیاء سے بلند ہے-
← ائمہ سہو اور غفلت سے محفوظ ہئں- (الکومة الاسلامیہ )
← توحید و رسالت کی شہادت کے ساته بارہ اماموں کی
امامت کی شہادت دینا بهی جزو ایمان ہے-
( تحریر الوسیلہ )
← امام کے بغیر یہ دنیا قائم نہیں رہ سکتی-
← امام کو پہچاننا اور ماننا شرط ایمان ہے-
← اماموں کی اطاعت فرض ہے-
← امام انبیاء علیہ السلام کی طرح معصوم ہوتے ہیں-
(اصول کافی)
← اماموں کا درجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر اور
ساری مخلوق اور دوسرے تمام انبیاء سے بهی
برتر اور بالاتر ہے-
(اصول کافی کراب الحجہ)
                            □□  ■■■  □□


( کتمان اور تقیہ ) 
مذهب شیعہ میں کتمان اور تقیہ بهی ہے یہ عقیدہ بهی
امامت کےلوازم و نتائج میں سے ہیں؛
عبد اللہ ابن سبا کے فیض یافتہ لوگوں نے امام باقر
اور امام جعفر صادق کے زمانہ میں
اثنا عشری مذہب کی جب بنیاد ڈالی
تو انہوں نے عقیدہ امامت اور شیعہ مذهب کو
بچانے کے لئے یہ دو عقیدے ایجاد کئے؛
چنانچہ اصول کافی میں امام جعفر صادق فرماتے ہیں
" تم ایسے دین پر ہو کہ جو شخص اس کو چهپائےگا (تقیہ اختیار کرےگا) اس کو اللہ تعالی کی طرف سے عزت عطا ہوگی
اور جو اسکو ظاہر کرےگا اللہ اسکو ذلیل کرےگا" -
دین کے دس حصوں میں سے نو حصے تقیہ (چهپانے )
میں ہیں
اور جو تقیہ نہیں کرتا وہ بےدین ہے"-
خلاصہ یہ کہ شیعوں کی بات پر اعتماد ناممکن ہے..
اس لئے شیخ عبد القدر جیلانی رح فرماتے ہیں کہ
شیعہ کی توبہ بهی ناقابل قبول ہے ، کیونکہ کیا پتا اپنے اصول تقیہ کی رو سے
دهوکابازی سے کام لے رہا ہو!
اسکے علاوہ چند عقائد درجے ذیل ہے...

تحریف قرآن مجید کے قائل شیعہ کافر
← شیعہ کی کتاب اصول کافی میں لکها ہے کہ امام جعفر نے فرمایا: وہ قرآن جو جبرئیل علیہ السلام
محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر لے کر نازل ہوئے تهے
اس میں ستر ہزار آیتیں تهیں-
{اس کے مطابق قرآن کا تقریبا دو تہائی حصہ غائب کر دیا گیا کیونکہ موجودہ قرآن میں ۶۶۶۶  آیات ہیں.}
← اصلی قرآن وہ تها جو حضرت علی رض نے مرتب فرمایا تها- وہ امام غائب کے پاس ہے- اور موجودہ قرآن سے مختلف ہے-(اصول کافی)
← قرآن میں 'پنجتن پاک' اور تمام ائمہ کے نام تهے
وہ نکال دیئے گئے اور تحریف کی گئی-

                              ○○  ●  ○○


شیعہ کے مطابق عام صحابہ کرام خاص کر خلفائے ثلاثہ کافر و مرتد
اور جہنمی ہیں
 حضرت علی دض کی ولایت نہ ماننے کی وجہ سے ←
خلفائے ثلاثہ اور عام صحابہ کرام کافر و مرتد ہو گئے (معاذاللہ )
← ایمان کے معنی امیرالمومنین علی، کفر کا مطلب ابوبکر، فسق سے مراد  عمر، عصیان سے عثمان(معاذاللہ)
(اصول کافی ص ۲۶۹ )
← ← ابو بکر کی بیعت سب سے پہلے ابلیس نے کی تهی-(فروع کافی
← تین کے سوا تمام صحابہ مرتد ہو گئے-(فروع کافی، کتاب الروضہ)
←شیعہ کا یہ بهی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالی کے علم میں غلطی ہوسکتی ہے
بلکہ ہوتی رہتی ہے وہ اسے بداء کہتے ہیں اور عقیدہ بداء سے بڑه کر ان کے مذہب میں اور کوئی عبادت نہیں-
(اصول کافی)
                         □  □  ■  ■  □  □


متعہ کیا ہے ؟
متعہ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی بهی مرد کسی بهی شوہر والی غیرمحرم عورت سے،
وقت کے تعین کے ساته مقررہ اجرت پر متعہ کے عنوان سے
معاملہ طے کرے تو اس وقت کے اندر اندر یہ دونوں
مباشرت کر سکتے ہیں
اس میں شاہد'گواہ'قاضی' وکیل کی اور اعلان کی'
بلکہ تیسرے آدمی کے باخبر ہونے کی ضرورت نہیں- چوری چهپے بهی یہ سب کچه ہو سکتا ہے
اور معلوم ہوا ہے کہ زیادہ تر ایسا ہی ہوتا ہے
( واللہ اعلم)
خمینی نے اپنی کتاب" تحریرالوسیلہ" میں لکها ہے
کہ متعہ جسم فروشی کا پیشہ کرنے والی بازاری عورت سے بهی
کیا جا سکتا ہے اور وہ صرف گهنٹہ دو گهنٹے کے لئے بہی
-ہو سکتا ہے
شیعوں کے ہاں متعہ
صرف جائز اورحلال ہی نہیں ہے بلکہ
نماز، روزہ اور حج سے بهی افضل عبادت ہے-(تفسیر منج الصادقین ج ۱، ص ۲۵۶)
علامہ باقر مجلسی نے متعہ کے موضوع پر ایک مستقل رسالہ لکها ہے جس میں
متعہ کی فضیلت کے بارے میں ایک یہ
روایت بهی نقل کی ہے- جس نے زن مومنہ سے متعہ کیا
گویا اس نے ستر مرتبہ خانہ کعبہ کی زیارت کی-(عجالہ حسنہ ص ۱۶ 
                 
             ◇  ○  ◆  ○  ◇


مذکورہ بالا عقائد کے کفر ہونے میں کسی کو شک و شبہ کی گنجائش ہئے ؟؟
اب بهی جو عاما شیعوں کی تکفیر میں توقف کریں وه عنداللہ مجرم ہوں گے-