17.7.15

نماز


نماز

الله رب العزت نے جو عبادات انسان پر
لازم قرار دی هے
ان سب عبادات میں اهم "نماز" هے-
قرآن کریم میں تقریبا ٩٠٠ مرتبه صراحة و اشارة نماز کا ذکر کیا گیا هے، اسی وجه سے نماز کو ایک عظیم درجه حاصل هے،
صرف نماز هی ایک ایسا رکن هے جسکی
فرضیت کا اعلان زمین پر نهیں بلکه ساتوں آسمانوں کے اوپر معراج کی رات هوا.
نیز یه طحفہ الله تعالی نے بذات خود اپنے حبیب علیه السلام کو عطا فرمایا-

قرآن کریم کا ارشاد هے…
"جو کتاب آپ پر وحی کی گئی هے اسے پڑھۓ اور نماز قائم کیجۓ،
یقینا نماز بےحیائی کو روکتی هے.“(العنکبوت٤٥)

الله تعالی نے نماز میں یه خاصیت و تاثیر رکھی هے
که وه نمازی کو گناهوں اور برائیوں سے روک دیتی هے
مگر ضروری هے که اس پر پابندی سے عمل کیا جاۓ اور نماز کو ان شرائط و آداب کے ساتھ پڑھا جاۓ جو نماز کی قبولیت کے
لئے ضروری هے.

ترجمه: "اے امان والو! صبر اور نماز کے ذریعه مدد چاهو،
بیشک الله تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ هے."(البقره ١٥٣)
جب بھی کسی پر پریشانی یا مصیبت آۓ تو مسلمان کو چاهئے که وه اس پر صبر کرے اور نماز کا خاص اهتمام کرکے
الله تعالی سے تعلق قائم کرے.
ایک جگه الله تعالی فرماتے هیں
"میں تمهارے ساتھ هوں اگر تم نماز قائم رکھوگے اور زکاة دیتے رهوگے."(المائده ١٢)
یعنی نماز کی پابندی کرنے سے بنده الله تعالی کے بهت قریب هو جاتا هے.

"یقینا ایمان والوں نے فلاح پائی جو اپنی نماز میں خشوع کرتے هیں"(المؤمنون ١،٢)

ارشاد نبوی هے: إنما مَوضِعُ الصلوةِ مِن الدينِ كموضع الرأسِ من الجسد.
ترجمه: نماز کا مقام دین میں ایسا هے جیسا که
سر کا مقام جسم میں هوتا هے.

نبی اکرم صلی الله علیه وسلم کا ارشاد هے: "قیامت کے دن اعمال میں سب سے پهلے نماز کا حساب لیا جائیگا،
اگر نماز درست هوئی تو وه کامیاب هوگا
اور اگر نماز درست نه هوئی تو
ناکام و خساره میں هوگا-"
(مسند احمد، ابن ماجه)
نبی اکرم صلی الله علیه وسلم کا ارشاد هے:
"جو شخص پانچوں نمازوں کی اس طرح پابندی کرے
که وضو اور اوقات کا اهتمام کرے،
رکوع اور سجده اچھی طرح کرے
اور اس طرح نماز پڑھنے کو الله تعالی کی طرف سے اپنے ذمه ضروری سمجھے
تو اس آدمی کو جهنم کی آگ پر حرام
کر دیا گیا-"(مسند احمد)

چند خلاصه احادیث ذیل میں مذکور هے-
٥ نماز کا ثواب ٥٠ نمازوں کے برابر دیا جاتا هے(ترمذی)
نمازی کے لئے
نماز قیامت کے دن نور هوگی.
عذاب سے بچنے کا ذریعه هوگی.
اور بے نمازی کے لئے نه نور هوگی نه کوئی ذریعه،
اور وه فرعون، هامان و قارون کے ساتھ هوگا-(مسند احمد)

لہاذا نماز کو ہمیشہ خوب پابندی سے وقت پر اچھی طرح وضو
کرکے اور دل لگا کر پڑھنا چاہئےـ

No comments:

Post a Comment